پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پر
Aadil Farhat (b. 1984)پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پر
خون کے دیکھے ہیں قطرے آج پھر زنجیر پر
ایک میں جو ناتواں تھا عشق کرنے کے لئے
اور وہ ریسرچ پوری کر چکا تھا میرؔ پر
عشق مجھ پر اس طرح حاوی ہوا ہے دوستو
جس طرح تصویر گرتی ہے کسی تصویر پر
بیٹیاں تو اس لئے بھی بے وفا ہیں عشق میں
باپ کی پگڑی ہے بھاری عشق کی تاثیر پر
آج خود تقدیر پر روتا ہوا دیکھا اسے
چھوڑ کر مجھ کو گیا تھا جو مری تقدیر پر