کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئے
Aadil Farhat (b. 1984)کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئے
ہم ایسے لوگ تو اپنے ہی من کی نذر ہوئے
پرانے عشق کی چوٹیں ابھی بدن پر تھیں
سو عشق چھوڑ دیا اور بدن کی نذر ہوئے
تمام عمر گزاری ہے شعر کہنے میں
ہمارے رات بھی دن بھی سخن کی نذر ہوئے
یہ کس کے خون سے رنگی گئی ہیں دیواریں
یہ کس کے خواب تھے جو اس چمن کی نذر ہوئے
نظر اٹھا کے جو دیکھا پلک جھپکنے لگی
تمہاری دید کے منظر کرن کی نذر ہوئے
ہماری عشق سے فرحتؔ کبھی بنی ہی نہیں
بس اس کی بات رکھی اور ملن کی نذر ہوئے