Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھیکس قدر بے بس و مجبور ہیں ہم بھی تم بھیZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  2. جب تلک در پیش کوئی حادثہ ہوتا نہیںزندگی کیا ہے ہمیں اس کا پتہ ہوتا نہیںZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  3. چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہےہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  4. خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگعجب ہے اس کی نگاہوں میں انتظار کا رنگZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  5. زندگی کو اک کہانی دے گیاہم سفر اپنی نشانی دے گیاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  6. زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کلکس قدر زہریلا انساں ہو رہا ہے آج کلZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  7. سمٹا سا اک قطرہ ہوںپھیل گیا تو دریا ہوںZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  8. غم سے گر آشنا نہیں ہوتاآدمی کام کا نہیں ہوتاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  9. کہتا ہے دیوانہ کیاسچ کیا ہے افسانہ کیاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  10. لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہےیہ دکھ خزاں میں کہاں تھا جو اب بہار میں ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  11. نام جس شے کا زندگانی ہےکچھ حقیقت ہے کچھ کہانی ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)
  12. جب کبھی اپنی تمناؤں کا گلشن دیکھامیں نے دل سوز زمانے کو بھی دشمن دیکھاNaeem Sahil (b. 1964)
  13. حسرت دیدۂ شب تاب لئے بیٹھے ہیںاپنی آنکھوں میں ہم اک خواب لئے بیٹھے ہیںNaeem Sahil (b. 1964)
  14. دنیا کہتی ہے کیا ان سنا کیجئےسامنے آئینہ رکھ لیا کیجئےNaeem Sahil (b. 1964)
  15. زمیں پہ جب کبھی جلوے نظر کے دیکھتے ہیںہم آسمان سے اکثر اتر کے دیکھتے ہیںNaeem Sahil (b. 1964)
  16. عشق جب مانگے ہے بس سادہ دلی مانگے ہےحسن بے ساختہ آشفتہ سری مانگے ہےNaeem Sahil (b. 1964)
  17. فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہےکوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہےNaeem Sahil (b. 1964)
  18. مٹ گیا ہوتا مگر زندہ ہوں تدبیر کے ساتھروز ہوتا ہے تماشہ مری تقدیر کے ساتھNaeem Sahil (b. 1964)
  19. جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئےآج مانگے جا رہا ہے وہ دعا میرے لئےEjaz Quraishi (b. 1964)
  20. جدھر بھی دیکھیے ہر سو ہمیں اغیار ملتے ہیںجہاں پر ہم قدم رکھیں وہیں پر خار ملتے ہیںEjaz Quraishi (b. 1964)
  21. حسیں لمحے گزر گئے یاروخواب سارے بکھر گئے یاروEjaz Quraishi (b. 1964)
  22. شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گےفلک پر چاند بھی کجلا گیا کیا تم نہ آؤ گےEjaz Quraishi (b. 1964)
  23. نام وہ میرا پکارے جا رہا تھا میں کہاں تھاحادثہ یہ خوب صورت کب ہوا تھا میں کہاں تھاEjaz Quraishi (b. 1964)
  24. آئی قریب شام تو ایسا لگا چراغاپنی ہی روشنی سے نہیں آشنا چراغPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
  25. طغیانیوں کا جتنا غرور اور بڑھ گیااتنا ہی میرا عزم عبور اور بڑھ گیاPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
  26. عالم تری یادوں کا منظم تو ہوا ہےپھر ایک نیا سلسلہ پیہم تو ہوا ہےPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
  27. ہم آنسوؤں سا ابل رہے ہیںآنکھوں سے تری نکل رہے ہیںPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
  28. ہم جیسے دل مضطر کی طرح زخموں کا مداوا کون کرےاک چارہ گر دل کی خاطر پھر طرفہ تماشا کون کرےPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
  29. اس نے پوچھا بھی مگر حال چھپائے گئے ہماپنے ہی آپ میں اک حشر اٹھائے گئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  30. بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیاپھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  31. برگ صدا کو لب سے اڑے دیر ہو گئیہم کو بھی اب تو خاک ہوئے دیر ہو گئیFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  32. تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہمپھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہمFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  33. حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتاکیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  34. دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیاکہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  35. دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہناشناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہناFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  36. دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھےجس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  37. سمجھ رہا تھا میں یہ دن گزرنے والا نہیںکھلا کہ کوئی بھی لمحہ ٹھہرنے والا نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  38. لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیاپھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیاFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  39. ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہرسو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہرFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  40. اس کو مرے خوابوں کا رستہجانے کس نے دکھایا ہےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  41. جب شام کی پلکیں تھرائیںیادوں کی آنکھیں بھر آئیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  42. جن گلیوں کا سورجرستہ بھول گیا ہوFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  43. خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئےہو گئے بند گیٹ آنکھوں کےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  44. زندگی ہو گئی ہے بے ترتیباب ٹھکانے پہ کوئی چیز نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  45. کوئی آگ پئے کہ زہر پئےیا سانپ ڈسے کی موت مرےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  46. ''مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیںکسی اور زمیں کی مٹی ہے''Faheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  47. اس کے آداب تو پہلے سیکھوخاک میں خون رگ جاں توFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  48. ایک بوسے کی طلب میںجسم کبڑے ہو گئےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  49. تم نے کیا دیکھا یہاں کچھ بھی نہیںہم نے کیا پایا یہاں کچھ بھی نہیںFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
  50. خاک میں خاک ملیاور ہوا قصہ تمامFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)