نام جس شے کا زندگانی ہے

Zafar Mahmood zafar (b. 1964)

نام جس شے کا زندگانی ہے

کچھ حقیقت ہے کچھ کہانی ہے

آپ دیوانہ کہہ رہے ہیں مجھے

آپ ہی کی تو مہربانی ہے

کل مجھے دیکھ کر جو ہنستے تھے

ان کی آنکھوں میں آج پانی ہے

ساری دنیا حسین لگتی ہے

ہائے کیا چیز نوجوانی ہے

ہم بضد ہیں کہ ان کو دیکھیں گے

ان کے ہونٹوں پہ لن ترانی ہے

یوں ندی میں جو تم نہاتے ہو

آگ پانی میں کیا لگانی ہے

ان کی زلفیں ہیں میرے شانوں پر

آج کی شام کیا سہانی ہے

زخم کے پھول درد کی شاخیں

کیا وفا کی یہی نشانی ہے

یہ عقیدہ ہے اے ظفرؔ میرا

شاعری دل کی ترجمانی ہے