عالم تری یادوں کا منظم تو ہوا ہے

Pandit Aks Lucknowi (b. 1964)

عالم تری یادوں کا منظم تو ہوا ہے

پھر ایک نیا سلسلہ پیہم تو ہوا ہے

خطرے کے نشاں پر تھا ترے حسن کا دریا

ٹکرا کے مرے عشق سے کچھ کم تو ہوا ہے

ہندو کی ہے ہ جس میں مسلمان کی ہے م

وہ لفظ کوئی اور نہیں ہم تو ہوا ہے

دو چار ترے غم جو ملے مجھ کو خصوصاً

تجھ میں جو عقیدہ تھا مسلم تو ہوا ہے

ہم ریل کی پٹری کی طرح ہی سہی لیکن

مشترکہ تو رستہ ہے وہ باہم تو ہوا ہے

پھولوں میں چھپا کر جو مجھے بھیجا تھا پتھر

وہ طنز مرے زخم کا مرہم تو ہوا ہے

مانا کہ تو ظالم کے برابر نہیں اے عکسؔ

اونچائی پہ لیکن مرا پرچم تو ہوا ہے