دنیا کہتی ہے کیا ان سنا کیجئے
Naeem Sahil (b. 1964)دنیا کہتی ہے کیا ان سنا کیجئے
سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے
آج کل ہر سفر مختصر ہے بہت
جلد از جلد ہر فیصلہ کیجئے
آپ کے شہر میں ایک مدت سے ہیں
ہم ہیں کس حال میں کچھ پتہ کیجئے
زندگی کا سفر تنہا کٹتا نہیں
عشق ہے گر خطا تو خطا کیجئے
یہ سنا ہے کہ سنتا ہے رب آپ کی
میرے حق میں کبھی تو دعا کیجئے
درد اچھا نہیں عمر بھر کے لئے
مندمل زخم کو مت ہرا کیجئے
آپ ساحلؔ کی باتوں میں مت آئیے
دل جو کہتا ہے اس کو سنا کیجئے