ہم آنسوؤں سا ابل رہے ہیں

Pandit Aks Lucknowi (b. 1964)

ہم آنسوؤں سا ابل رہے ہیں

آنکھوں سے تری نکل رہے ہیں

تم ساتھ کہیں نہیں ہو لیکن

ہم ساتھ تمہارے چل رہے ہیں

یہ کس کا انتظار ہے آج

لمحات صدی میں ڈھل رہے ہیں

مہماں کی طرح وہ اشک بن کر

آنکھوں میں ہماری پل رہے ہیں

رہنا ہے تمہارے دل میں ورنہ

قدموں میں کئی محل رہے ہیں

محفل میں نوازا جن گلوں کو

گلشن میں انہیں مسل رہے ہیں

بے کار ہیں عکسؔ دن میں جگنو

سورج کے اجالے کھل رہے ہیں