فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہے
Naeem Sahil (b. 1964)فضا دشوار جاں ہو تو محبت اور بڑھتی ہے
کوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہے
گلے شکوے چلو مل بیٹھ کر سب دور ہم کر لیں
نگاہیں پھیر لینے سے کدورت اور بڑھتی ہے
ہمارا مشورہ اہل جہاں کو راس کیوں آئے
برا جب وقت ہوتا ہے حماقت اور بڑھتی ہے
کسی مظلوم کے حق میں کبھی سچ بول کر دیکھو
ہر اک انسان کی نظروں میں عزت اور بڑھتی ہے
ہمیں آگاہ کرتا ہے ہمیشہ ہی برائی سے
خلاف قلب جانے پر ندامت اور بڑھتی ہے
یوں کہنے کو ہزاروں لوگ کہتے ہیں غزل لیکن
سلیقے سے کہی جائے تو شہرت اور بڑھتی ہے
خموشی بزدلی کی ہے علامت اس لئے ساحلؔ
عدو کے ظلم ڈھانے کی جسارت اور بڑھتی ہے