جب کبھی اپنی تمناؤں کا گلشن دیکھا

Naeem Sahil (b. 1964)

جب کبھی اپنی تمناؤں کا گلشن دیکھا

میں نے دل سوز زمانے کو بھی دشمن دیکھا

اپنے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جب بھی

میں نے ہر بار پرانا کوئی درپن دیکھا

اس قدر کھویا ہوا تھا میں تری یادوں میں

صحرا دیکھا نہ کبھی راہ میں گلشن دیکھا

کیفیت دل کی بیاں کرتی تھیں آنکھیں سب کی

میں نے ہر شخص کا بھیگا ہوا دامن دیکھا

دشمنی میں بھی محبت سے وہ پیش آتا ہے

اس کے جیسا نہ کوئی دوست نہ دشمن دیکھا

ہو گیا اس کی میں عظمت کا جہاں میں قائل

جب کہیں بھی کسی دانا کو فروتن دیکھا

تیرا شیدائی ہوں میں روز ازل سے ساحلؔ

زندگی تجھ کو ہر اک دور میں احسن دیکھا