زمیں پہ جب کبھی جلوے نظر کے دیکھتے ہیں
Naeem Sahil (b. 1964)زمیں پہ جب کبھی جلوے نظر کے دیکھتے ہیں
ہم آسمان سے اکثر اتر کے دیکھتے ہیں
بلا کا حسن ہے اس کی سبک اداؤں میں
جو بے نیاز ہیں وہ بھی ٹھہر کے دیکھتے ہیں
یہ حوصلہ ہے ہمارا کہ بال و پر اپنے
اڑان بھرنے سے پہلے کتر کے دیکھتے ہیں
ضرور دل میں کوئی خواہش سفر ہوگی
وہ بار بار ہمیں کیوں سنور کے دیکھتے ہیں
انہی کو ملتی ہے ہر گام پہ نئی منزل
تمام عمر جو امکاں سفر کے دیکھتے ہیں
وہ ناتواں ہو یا غازی یا اہل ثروت ہو
تمام لوگ تمہیں آہ بھر کے دیکھتے ہیں
جسے زمانہ سمجھتا ہے پر خطر ساحلؔ
ہم ایسی راہ سے اکثر گزر کے دیکھتے ہیں