Poetry
Poet
Meter
- بہتے پانی کی نشانی اور ہےٹھہرے دریا کی روانی اور ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- تم نے جو کیا پیش وہ گلدان بہت ہےیہ رسم و رہ خاص مری جان بہت ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- تمہاری زلف کا ہو کر اسیر زندہ ہےکسی طرح سے سہی یہ فقیر زندہ ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہےکہ جیسے قیمتیں چیزوں کی مہنگائی بڑھاتی ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- دور گھر سے کہیں اس طرح بھی جایا جائےدیر تک دھوپ کی بارش میں نہایا جائےBadr Mohammadi (b. 1963)
- روشنی اور اندھیروں کے سفر کا جادودیکھتا رہتا ہوں میں شام و سحر کا جادوBadr Mohammadi (b. 1963)
- عارض کی تاب سایۂ گیسو غزل میں ہےیعنی کہ دھوپ چھاؤں کا جادو غزل میں ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- مری زمین ترے آسماں سے بہتر ہےیقیں یقیں ہے کسی بھی گماں سے بہتر ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- میں پربت ہوں وہ رائی کی طرح ہےہمارے بیچ کھائی کی طرح ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- نظر ہماری سر کوہ طور آ جائےدیار دل میں ذرا اس کا نور آ جائےBadr Mohammadi (b. 1963)
- نہیں وہ کھول کر لب بولتا ہےیہ اس کا کون سا ڈھب بولتا ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- ہمارا عزم زیادہ کہ رہ گزر کم ہےہر ایک گام پہ لگتا ہے یہ سفر کم ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- ہمارے ہونٹوں پہ کیوں شکوۂ بہار آئےکہ عمر اپنی بیاباں میں ہم گزار آئےBadr Mohammadi (b. 1963)
- الجھی عقیدتوں کے بیانات ہم سفرجس راہ بھی گئے یہ خرابات ہم سفرIffat abbas (b. 1963)
- ایک مدت سے سر دوش ہوا ہوں میں بھیاتنا شفاف کہ ھم رنگ فضا ہوں میں بھیIffat abbas (b. 1963)
- بلا نئی کوئی پالوں اگر اجازت ہوجنوں کو شوق بنا لوں اگر اجازت ہوIffat abbas (b. 1963)
- خوں میں تر صبر کی چادر کہاں لے جاؤ گےزندگانی کو برہنہ سر کہاں لے جاؤ گےIffat abbas (b. 1963)
- رحمتوں میں تری آغوش کی پالے گئے ہمایسے مردود ہوئے پھر کہ نکالے گئے ہمIffat abbas (b. 1963)
- رہ جستجو میں بھٹک گئے تو کسی سے کوئی گلا نہیںکہ ہم اس کے ہو کے نہ جی سکے وہ ہمارا بن کے ملا نہیںIffat abbas (b. 1963)
- شب فرقت کی تنہائی کا لمحہکئی راز نہانی کھولتا ہےIffat abbas (b. 1963)
- مری محبت کی بے خودی کو تلاش حق جلال دیناکبھی جو پابندۂ ستم ہوں مجھے بھی عزم مقال دیناIffat abbas (b. 1963)
- نظر جو آیا اس پہ اعتبار کر لیا گیاحقیقتوں کے درک سے فرار کر لیا گیاIffat abbas (b. 1963)
- ہے یہ شہر عشق یاں آب و ہوا کچھ اور ہےسرخ رنگت ہے زمیں کی اور فضا کچھ اور ہےIffat abbas (b. 1963)
- ہے یہ مر مٹنے کا انعام تمہیں کیا معلوملذت دشنئہ بد نام تمہیں کیا معلومIffat abbas (b. 1963)
- آوارہ بوئے گل کی طرح ہیں چمن سے دورلغزیدہ پا نہیں ہیں مگر ہم وطن سے دورRaees Warsi (b. 1963)
- اب تو جو منظر شاداب نظر آتا ہےایسا لگتا ہے کوئی خواب نظر آتا ہےRaees Warsi (b. 1963)
- اسے بھلا کے بھی یادوں کے سلسلے نہ گئےدل تباہ ترے اس سے رابطے نہ گئےRaees Warsi (b. 1963)
- اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکاوہ وقت کی مثال تھا واپس نہ آ سکاRaees Warsi (b. 1963)
- تیرے پیکر سی کوئی مورت بنا لی جائے گیدل کے بہلانے کی یہ صورت نکالی جائے گیRaees Warsi (b. 1963)
- جبہ کسی کا اور نہ دستار دیکھناہے کون مفلسوں کا طرف دار دیکھناRaees Warsi (b. 1963)
- جو آ سکو تو بتاؤ کہ انتظار کریںوگرنہ اپنے مقدر پہ اعتبار کریںRaees Warsi (b. 1963)
- جو دیکھو تو وہ چہرہ اجنبی ہےاگر سوچو تو وجہ زندگی ہےRaees Warsi (b. 1963)
- خود آگہی کا عجب روگ لگ گیا ہے مجھےکہ اپنی ذات پہ دھوکہ ترا ہوا ہے مجھےRaees Warsi (b. 1963)
- میں ایک کانچ کا پیکر وہ شخص پتھر تھاسو پاش پاش تو ہونا مرا مقدر تھاRaees Warsi (b. 1963)
- یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئےبچھڑ گئے تھے جو ہم سے وہ خواب میں آئےRaees Warsi (b. 1963)
- اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑیئے گاحال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑیئے گاEjaz Haidar (b. 1963)
- بات جھوٹی اثر خیالی ہےسرفروشی کا سر خیالی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- تاج میں ہو بھی سکتا ہےہیرا کھو بھی سکتا ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- خوشی کی بات تھی لیکن مجھے رلا گئی ہےکہاں سے بات چلی تھی کہاں تک آ گئی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- سستا رہا ہوں میں ابھی ہلکان تو نہیںیہ زندگی ہے اتنی بھی آسان تو نہیںEjaz Haidar (b. 1963)
- عجیب طرح کا اک غم ہے جاں سے لپٹا ہوابگولا جیسے کوئی بادباں سے لپٹا ہواEjaz Haidar (b. 1963)
- گر نہیں کچھ بھی آپ سے ملناآپ سے پھر نہیں مجھے ملناEjaz Haidar (b. 1963)
- نئے برس بھی جو میلا لگایا جانا ہےگئے دنوں کو ہی اس میں بلایا جانا ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہےاور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- ہجر پیہم ہے کیا کیا جائےمستقل غم ہے کیا کیا جائےEjaz Haidar (b. 1963)
- اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملیڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملیZafar Imam (b. 1963)
- بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گیسجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گیZafar Imam (b. 1963)
- درد بہتا ہے دریا کے سینے میں پانی نہیںاس کا چٹان پہ سر پٹکنا کہانی نہیںZafar Imam (b. 1963)
- درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کرکیسے جائے کوئی احساس کی ہجرت لے کرZafar Imam (b. 1963)
- دکھ درد مرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیںظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیںZafar Imam (b. 1963)