بات جھوٹی اثر خیالی ہے
Ejaz Haidar (b. 1963)بات جھوٹی اثر خیالی ہے
سرفروشی کا سر خیالی ہے
کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر
یعنی سارا سفر خیالی ہے
بھائی چارہ خلوص آشتی امن
ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے
جلتے رہنا چراغ شب مرے ساتھ
ہجر بھاری سحر خیالی ہے
آتے جاتے رہا کرو اس پر
دل میں اک رہ گزر خیالی ہے
ننگے پاؤں کوئی نہیں آتا
اب تو ہر دوپہر خیالی ہے