ہمارا عزم زیادہ کہ رہ گزر کم ہے

Badr Mohammadi (b. 1963)

ہمارا عزم زیادہ کہ رہ گزر کم ہے

ہر ایک گام پہ لگتا ہے یہ سفر کم ہے

اجالا اور بھی کچھ پھیلنے دو آنگن میں

ابھی نہ شمع بجھاؤ کہ یہ سحر کم ہے

جو پڑھ سکو تو بہت ہے مری جبیں کی شکن

ثبوت غم کے لئے ورنہ چشم تر کم ہے

برابری کے لئے چاہئے کمی بیشی

مکان اونچا بناؤ زمیں اگر کم ہے

کئی چراغ منور ہیں بزم میں لیکن

انہیں پتا یہ نہیں روشنی کدھر کم ہے

تمہاری زلف کے سائے میں دھوپ بے معنی

مرے لئے تو قیامت کی دوپہر کم ہے

ملے نہ ذائقہ کچھ اتنی بے نمک بھی نہیں

ہماری بات میں لیکن ذرا شکر کم ہے