اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑیئے گا

Ejaz Haidar (b. 1963)

اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑیئے گا

حال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑیئے گا

گاتے رہیے گا کڑی دھوپ میں بھی نغمۂ عشق

اب جنوں موسم برسات پہ مت چھوڑیئے گا

چشم حیرت میں نمی رکھیے گا وجدان کی بھی

راز سارے ہی کرامات پہ مت چھوڑیئے گا

شہر میں رکھیے گا کچھ پیڑ لگانے کی جگہ

یہ فریضہ بھی مضافات پہ مت چھوڑیئے گا

یار جب دھیان میں آ جائے وہیں کیجئے رقص

جشن اب صورت حالات پہ مت چھوڑیئے گا

بے سبب ٹوٹ بھی جاتی ہے کبھی بات کہیں

دوست اچھا ہو تو اس بات پہ مت چھوڑیئے گا

جو بھی ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا حیدرؔ

یعنی دل وہم و خیالات پہ مت چھوڑیئے گا