Poetry
Poet
Meter
- کبھی جو خاک کی تقریب رو نمائی ہوئیبہت اڑے گی وہاں بھی مری اڑائی ہوئیRafi Raza (b. 1962)
- لمس کو چھوڑ کے خوشبو پہ قناعت نہیں کرنے والاایسی ویسی تو میں اب تم سے محبت نہیں کرنے والاRafi Raza (b. 1962)
- میں اپنی آنکھ کو اس کا جہان دے دوں کیازمین کھینچ لوں اور آسمان دے دوں کیاRafi Raza (b. 1962)
- وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگےاب ڈھونڈ مجھے مجمع عشاق سے آگےRafi Raza (b. 1962)
- آسماں پر کالے بادل چھا گئےگھر کے اندر آئنے دھندلا گئےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگےٹھہرو کہ قوس برق و لہب بولنے لگےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھدھڑک رہا ہے یہ دل کس رباب خواب کے ساتھBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھانا قابل عبور یہ دریا کبھی نہ تھاBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاںیہ مرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاںBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسوہے در دل پہ کوئی سنگ گراں ہم نفسوBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کابیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کاBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگیلہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگیBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- جو بات نثری ہے نظریاتی ہے جدلیاتی ہے وہ مکمل کبھی نہ ہوگیمگر جو مجمل ہے اور موزوں ہے اور حتمی اور آخری ہے وہ شاعری ہےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- تم ہو مسیح درد تو بیمار کون ہےظلمت کدہ میں مطلع انوار کون ہےQaisar Azeez (b. 1962)
- حسن والوں کی طبیعت سے حیا نکلی ہےعشق کی خاک سے خوشبوئے وفا نکلی ہےQaisar Azeez (b. 1962)
- خود اپنی کاوشوں سے آب و دانہ ڈھونڈ لیتے ہیںپرندے اپنے رہنے کا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںQaisar Azeez (b. 1962)
- خیال و خواب کی دنیا بدل گیا کوئیحصار ذات سے باہر نکل گیا کوئیQaisar Azeez (b. 1962)
- درد غم حیات کا انجام کیا ہوایہ پوچھتا ہے اب دل ناکام کیا ہواQaisar Azeez (b. 1962)
- قربتیں اپنی جگہ ہیں فاصلے اپنی جگہراحتیں اپنی جگہ ہیں حادثے اپنی جگہQaisar Azeez (b. 1962)
- کبھی تو عشق میں ایسی گھڑی بھی آتی ہےسکون ملتا ہے غم سے خوشی رلاتی ہےQaisar Azeez (b. 1962)
- ہم کو کیا ہے وقت نے مجبور کیا کریںاس واسطے ہیں آپ سے ہم دور کیا کریںQaisar Azeez (b. 1962)
- آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تکدھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تکGhani Ghayoor (b. 1962)
- باغی حدود سے بہت آگے نکل گئےسورج چھوا نہ تھا کہ مرے ہاتھ جل گئےGhani Ghayoor (b. 1962)
- برستے روز پتھر دیکھتا ہوںیہی رونا میں گھر گھر دیکھتا ہوںGhani Ghayoor (b. 1962)
- خضر جیسا ہے راہبر مجھ میںمجھ کو درپیش ہے سفر مجھ میںGhani Ghayoor (b. 1962)
- شام تک بند رہتا ہے کمرہ مرااور کمرے میں تنہا کھلونا مراGhani Ghayoor (b. 1962)
- کھوٹا سکہ کوئی لے ممکن نہیںاور بٹوے میں رہے ممکن نہیںGhani Ghayoor (b. 1962)
- ہمارے شہر کا دستور باباپریشاں حال ہر مزدور باباGhani Ghayoor (b. 1962)
- اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہےنگاہ پڑھنے میں ہم ہیں ماہر اسے یہ شاید پتا نہیں ہےPallavi Mishra (b. 1962)
- زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاںمنزلوں کا راستہ دشوار ہوتا ہے یہاںPallavi Mishra (b. 1962)
- عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہےتیرا جو کارواں ہے خوشبو کا کارواں ہےPallavi Mishra (b. 1962)
- کبھی سب چھین لیتا ہوں کبھی نعمت لٹاتا ہوںمجھے سب وقت کہتے ہیں میں انگلی پر نچاتا ہوںPallavi Mishra (b. 1962)
- کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاںکیا حسن چھپ گیا ہے نقابوں کے درمیاںPallavi Mishra (b. 1962)
- نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میںیہ بات آج کھلنے لگی تیرے شہر میںPallavi Mishra (b. 1962)
- وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلاجیسے ملنے کسی اپسرا سے چلاPallavi Mishra (b. 1962)
- بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑاہمیں بھی داد کا مرہم گوارا کرنا پڑاKabeer Athar (b. 1962)
- جو عام سا اک سوال پوچھا تو کیا کہیں گےکسی نے ہم سے بھی حال پوچھا تو کیا کہیں گےKabeer Athar (b. 1962)
- جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہےبہشت خاک میں اے رفتگاں کیا چل رہا ہےKabeer Athar (b. 1962)
- کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھمجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھKabeer Athar (b. 1962)
- ہم سایے سے طلب کروں پانی کے بعد کیارہتا ہے ہوش نقل مکانی کے بعد کیاKabeer Athar (b. 1962)
- پنکھ ہوتے کہیں اڑی چڑیاپھر نہ پیچھے کبھی مڑی چڑیاKailash Jha Kinkar (1962–2020)
- سرد موسم میں پسینہ نکلایار مشکل سے مہینہ نکلاKailash Jha Kinkar (1962–2020)
- عجیب بات ہے رہبر نظر نہیں آتامصیبتوں میں وہ اکثر نظر نہیں آتاKailash Jha Kinkar (1962–2020)
- کسی کسی کی کمال دنیابسی ہوئی ہے وشال دنیاKailash Jha Kinkar (1962–2020)
- امنگیں دل میں ہوں صحرا بھی عالیشان لگتا ہےبجھے دل کو سجی محفل کا در ویران لگتا ہےDeepak Danish (b. 1962)
- پردوں سے گھر کے راز چھپائے گا کیا کوئیپھولوں سے گھر کا روپ کھلائے گا کیا کوئیDeepak Danish (b. 1962)
- ہر ذرہ چمن زار کی زینت کا سبب ہےمحفل میں چمن زار کی ہر شے کا ادب ہےDeepak Danish (b. 1962)
- آنکھوں میں اپنی اشک ندامت لئے ہوئےہم ہیں عجیب رنگ عبادت لئے ہوئےBadr Mohammadi (b. 1963)
- اس سے الگ ہو ایسی مری ذات ہی نہیںمیرا نہیں ہے وہ تو کوئی بات ہی نہیںBadr Mohammadi (b. 1963)
- اک تہی دست سے کیا کیا تن فانی مانگےسایۂ زیست میں ہے نقل مکانی مانگےBadr Mohammadi (b. 1963)