ہمارے ہونٹوں پہ کیوں شکوۂ بہار آئے
Badr Mohammadi (b. 1963)ہمارے ہونٹوں پہ کیوں شکوۂ بہار آئے
کہ عمر اپنی بیاباں میں ہم گزار آئے
تھکا سا وقت مجھے کرنے تازہ کار آئے
نہ آئے صبح مگر شام انتظار آئے
ہزار بار نہیں صرف ایک بار آئے
ہماری حد نظر میں وہ شہسوار آئے
خیال یار کا یوں ہے گزر مرے دل میں
کہ چیز جیسے دکاں سے کوئی ادھار آئے
کسی بھی کپڑے میں لگتا ہے خوبصورت وہ
لباس اس کے بدن پر بہ افتخار آئے
بغیر اس کے نشہ سا سوار ہے مجھ پر
اتارنے کے لئے وہ مرا خمار آئے
کہ نیک کاروں میں جیسے گناہ گار آئے