تم نے جو کیا پیش وہ گلدان بہت ہے
Badr Mohammadi (b. 1963)تم نے جو کیا پیش وہ گلدان بہت ہے
یہ رسم و رہ خاص مری جان بہت ہے
انجان ہوا جاتا ہوں میں کس لیے خود سے
شاید کہ مری شہر میں پہچان بہت ہے
ہشیار ہے جو چیز مقید ہے وہ سر میں
آزاد ہے جو سینے میں نادان بہت ہے
دل کو میں حراست سے تری کیسے چھڑاؤں
مطلوب ہے جو مجھ سے وہ تاوان بہت ہے
کس خشک علاقے پہ پڑی ہے نظر اس کی
کیا بات ہے جو ابر پریشان بہت ہے
مشکل ہے بہت آئنے میں دیکھنا خود کو
میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آسان بہت ہے
استاد سخن کی نہیں اے بدرؔ ضرورت
ہو سامنے جو میرؔ کا دیوان بہت ہے