اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی

Zafar Imam (b. 1963)

اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی

ڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملی

آج تک اک موج بھی تم کو نہ دیوانی ملی

سرپھری پاگل ہوا کو روکنا دشوار تھا

ایک ہی دن کے لیے تھی اس کو سلطانی ملی

تشنہ لب تالاب نے بادل کو پھر دھوکا دیا

پھر وہی صحرا وہی صحرا کی ویرانی ملی

ہر سفر سے کشتیوں کا لوٹنا ممکن نہیں

کیا پتہ کب لہر کوئی دشمن جانی ملی

آگے پیچھے سب کو مقتل سے گزرنا ہے ظفرؔ

کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم کو ہی پریشانی ملی