تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہے
Badr Mohammadi (b. 1963)تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہے
کہ جیسے قیمتیں چیزوں کی مہنگائی بڑھاتی ہے
نظر آتی ہے دنیا خوب صورت دیکھ کر تم کو
تمہاری دید ان آنکھوں کی بینائی بڑھاتی ہے
کسی کی آنکھوں میں غرقاب ہو کر ہم نے یہ جانا
ندی کی قدر و قیمت اس کی گہرائی بڑھاتی ہے
اگر دل ہو کشادہ تو خوشی رہتی ہے چہرے پر
گھروں کی رونقیں جس طرح انگنائی بڑھاتی ہے
محبت میں اضافے سے میاں ہشیار ہی رہنا
یہ ایسی نیک نامی ہے جو رسوائی بڑھاتی ہے
قیامت ہے نہیں کچھ دیکھتا اپنے سوا کوئی
یہ دنیا کس لئے پھر بزم آرائی بڑھاتی ہے
ملاقاتوں سے کوئی بدرؔ ہے گمنام سا لیکن
مری گوشہ نشینی ہی شناسائی بڑھاتی ہے