عارض کی تاب سایۂ گیسو غزل میں ہے

Badr Mohammadi (b. 1963)

عارض کی تاب سایۂ گیسو غزل میں ہے

یعنی کہ دھوپ چھاؤں کا جادو غزل میں ہے

بزم سخن نہ پوچھ معطر ہے کس لئے

گلہائے رنگا رنگ کی خوشبو غزل میں ہے

سکتہ قبول قافیہ پیمائی کو نہیں

بے وزن ہونا مت کہ ترازو غزل میں ہے

کرتا ہوں تیرے ذکر سے عرض اپنی بات میں

کب کوئی امتیاز من و تو غزل میں ہے

ہر اک غزل ہے میر تقی میرؔ عادتاً

ہو یا نہ ہو ہنسی مگر آنسو غزل میں ہے

کہئے تمام شاعری کی آبرو اسے

طرز بیاں کچھ اور ہی اردو غزل میں ہے

عورت سے گفتگو کو نہیں طول دیجئے

ایجاز و اختصار کا پہلو غزل میں ہے