تمہاری زلف کا ہو کر اسیر زندہ ہے
Badr Mohammadi (b. 1963)تمہاری زلف کا ہو کر اسیر زندہ ہے
کسی طرح سے سہی یہ فقیر زندہ ہے
مکان ہستی کا فرد امیر زندہ ہے
میں زندہ ہوں ابھی میرا ضمیر زندہ ہے
ہماری خاک بس اپنی جگہ پہ ٹھہرے گی
چلے چلو کہ ابھی تو خمیر زندہ ہے
وہ پھول ہو گیا امن و امان کی خاطر
لڑو نہ شیخ و برہمن کبیر زندہ ہے
تڑپتی زندگی اخبار کے ورق بہ ورق
بتا رہی ہیں یہ خبریں مدیر زندہ ہے
بیان موت نے بخشی حیات کتنوں کو
انیسؔ باقی ہے اب تک دبیرؔ زندہ ہے