ہجر پیہم ہے کیا کیا جائے

Ejaz Haidar (b. 1963)

ہجر پیہم ہے کیا کیا جائے

مستقل غم ہے کیا کیا جائے

ایک تصویر سامنے ہے مگر

آنکھ پر نم ہے کیا کیا جائے

اس کی عادت ہے دیر کر دینا

زندگی کم ہے کیا کیا جائے

سونپ دیتا ہوا کو خاک اپنی

پر ابھی نم ہے کیا کیا جائے

کیسا جھگڑا ہے میرے اندر یہ

شور ہر دم ہے کیا کیا جائے

میں ہوں تنہا اور آپ کے حق میں

ایک عالم ہے کیا کیا جائے

جھوٹ کا اور عدل کا حیدرؔ

ربط باہم ہے کیا کیا جائے