نظر ہماری سر کوہ طور آ جائے
Badr Mohammadi (b. 1963)نظر ہماری سر کوہ طور آ جائے
دیار دل میں ذرا اس کا نور آ جائے
وہ اتنی دور ہے مجھ سے کہ سوچتا ہوں میں
بدن میں کاش ادائے طیور آ جائے
سبب ہے خوب کہیں دور اس کے رہنے کا
نظر کو دید کا پہلے شعور آ جائے
ہجوم دہر میں چہرہ دکھائی دے اس کا
بیان کوئی تو بین السطور آ جائے
ہر ایک دل کو مسلسل ٹٹولتے رہئے
نہ جانے کون سے دل میں فتور آ جائے
پھر اس سے دور بہت دور ہو رہے گا خدا
نہ حد کے پار دل ناصبور آ جائے
چرائے فکر نہ آنکھیں یہ بدرؔ اس سے کہو
تمہارے فن کا ہوا ہے ظہور آ جائے