عجیب طرح کا اک غم ہے جاں سے لپٹا ہوا
Ejaz Haidar (b. 1963)عجیب طرح کا اک غم ہے جاں سے لپٹا ہوا
بگولا جیسے کوئی بادباں سے لپٹا ہوا
میں لکھنے بیٹھوں تو کاغذ ہی بھیگ جاتا ہے
وہ شخص یوں ہے مری داستاں سے لپٹا ہوا
طلب سکون میں کرتا ہوں بے سکونی سے
کہ میرا سود ہے میرے زیاں سے لپٹا ہوا
میں نیند میں ہوں مگر خواب کس طرح دیکھوں
مرا شعور ہے میرے گماں سے لپٹا ہوا
اگرچہ نیند مجھے اب بھی آ ہی جاتی ہے
مگر وہ نیند کہ سوتا تھا ماں سے لپٹا ہوا
بغیر پوچھے مجھے راستہ بتاتا ہے
کوئی تو ہے کہ مرے کارواں سے لپٹا ہوا