کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہے

Charan Singh Bashar (b. 1957)

کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہے

ہے کتنی دور اور سحر دیکھنا یہ ہے

ہر اک قدم پہ وقت بدل جائے ہے یہاں

کس طرح طے کرو گے سفر دیکھنا یہ ہے

بوڑھا درخت تیز ہواؤں کے سامنے

کب تک رہے گا سینہ سپر دیکھنا یہ ہے

ہونٹوں پہ کھل رہے ہیں صداقت کے چند پھول

نیزے پہ کب بلند ہو سر دیکھنا یہ ہے

دنگے میں تو ہلاک ہوئے بے شمار لوگ

کل کس طرح چھپے گی خبر دیکھنا یہ ہے

انسانیت کے نام پہ کب تک لڑیں گے ہم

کب تک بہے گا خون بشرؔ دیکھنا یہ ہے