اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہے

Charan Singh Bashar (b. 1957)

اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہے

تو جس طرف چلی ہے ادھر میرا گھر بھی ہے

دستار مجھ سے مانگنے والے نظر اٹھا

دستار ہی نہیں مرے شانے پہ سر بھی ہے

ظاہر میں ٹھیک ٹھاک ہے ہر ایک آدمی

انداز گفتگو میں بکھرنے کا ڈر بھی ہے

تیری ہی خوشبوؤں سے مہکتی ہے رہ گزر

تیری طرف سفر بھی تو ہی ہم سفر بھی ہے

دنیا تری عجیب ہے میرے خدا جہاں

جینے کی آرزو بھی ہے مرنے کا ڈر بھی ہے

اللہ سے بشرؔ نہیں چھپتا کسی کا حال

کیا ہے ہمارے دل میں اسے یہ خبر بھی ہے