حقائق کتنے اے اہل نظر ہم بھول جاتے ہیں
Zaheer Ghazipuri (b. 1938)حقائق کتنے اے اہل نظر ہم بھول جاتے ہیں
چھپے ہوتے ہیں پتھر میں گہر ہم بھول جاتے ہیں
تپش شبنم میں ہو پیدا تو ہم حیران ہو جائیں
مگر شعلوں کا انداز سفر ہم بھول جاتے ہیں
برسنا آگ کا پتھر کا ہم کو یاد رہتا ہے
دعاؤں میں بھی ہوتا ہے اثر ہم بھول جاتے ہیں
رہا ہے مدتوں سے ایسا ہی انداز نقد اپنا
اندھیرے یاد رہتے ہیں سحر ہم بھول جاتے ہیں
ہمیشہ یاد رکھتے ہیں شکست و ریخت کی باتیں
مگر کیا شے ہے اعجاز ہنر ہم بھول جاتے ہیں
ظہیرؔ اپنے قلم کی ہیں کرشمہ سازیاں ایسی
کہ اپنی ذات کے سب خیر و شر ہم بھول جاتے ہیں