ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہے
Zafar Kaleem (b. 1938)ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہے
شاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہے
کل تک کہ جس کے نام سے سجتی تھیں محفلیں
تنہائیوں میں آج وہ کھویا ہوا سا ہے
بدلے بدلتے وقت نے حالات کیا مرے
ہر شخص کا مزاج ہی بدلا ہوا سا ہے
ممکن اگر ہو کوئی نیا زخم دیجئے
جو زخم بھی ہے جیسے پرانا ہوا سا ہے