لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میں

Zaheer Ghazipuri (b. 1938)

لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میں

ہنستے گاتے رنگ دکھاتا جاؤں میں

تیرے دم سے جیون میں ہریالی ہے

دھوپ تجھے سپنوں میں سجاتا جاؤں میں

حرف و قلم کی جولانی جب قائم ہے

کاغذ کاغذ کھیت اگاتا جاؤں میں

سینہ سینہ سورج بن کر جب اتروں

انگلی انگلی خواب جگاتا جاؤں میں

دریا دریا اپنے اندر یوں پھیلوں

جنگل جنگل راہ بناتا جاؤں میں

کچی کچی پھول ستارے شعلے خون کتاب

اپنے کتنے روپ دکھاتا جاؤں میں

ذہن جلے انگارہ آنکھیں ہو جائیں

جذبوں کے مہتاب لٹاتا جاؤں میں