شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہت

Zafar Kaleem (b. 1938)

شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہت

خود نمائی میں کیا چمک ہے بہت

بجھ رہے ہیں چراغ آنکھوں کے

اک دھندلکا سا دور تک ہے بہت

لمحہ بھر کا فقط دھماکا ہے

بجلیوں میں کہاں چمک ہے بہت

زخم تو بھر چکے سبھی لیکن

اب بھی احساس کی کسک ہے بہت

پیڑ بوڑھا سہی مگر پھر بھی

ٹہنیوں میں ابھی لچک ہے بہت

نکہت گل سے ہم کو کیا لینا

زخم کھل جائیں تو مہک ہے بہت

چیخ اٹھیں خموشیاں بھی ظفرؔ

اس بیاباں میں کیوں دھمک ہے بہت