جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئے

Zaheer Ghazipuri (b. 1938)

جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئے

سب اپنے ذوق جنوں کی ندی میں ڈوب گئے

عجیب سانحہ گزرا ہے نکتہ دانوں پر

جس آگہی سے وہ ابھرے اسی میں ڈوب گئے

رفیق بن کے جب آیا نیا خیال کوئی

خوشی کچھ اتنی ملی ہم خوشی میں ڈوب گئے

کسی طرف سے بھی کوئی صدا نہیں آئی

پرندے شام ہی سے خامشی میں ڈوب گئے

اب اپنے ظرف کے تابوت پر ہیں نوحہ کناں

جو لوگ اپنی ہی خوش آگہی میں ڈوب گئے

زبان‌ و لفظ کے اب تک ہزاروں جادوگر

خود اپنے فن کی اندھیری گلی میں ڈوب گئے

ابھر سکے نہ جو حالات کے تھپیڑوں سے

وہ رفتہ رفتہ غم زندگی میں ڈوب گئے