ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگ
Zafar Kaleem (b. 1938)ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگ
اپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگ
صدیوں سے ہم ویرانے میں رہتے ہیں
جانے کیسے شہر بسا لیتے ہیں لوگ
ہم تو اس کا من بھی جیت نہیں پائے
پتھر کے بھگوان جگا لیتے ہیں لوگ
آنکھیں نیچی کر کے اپنی راہ چلو
پلکوں سے الفاظ چرا لیتے ہیں لوگ
ایک ہمیں ہیں کانٹوں کو محتاج ظفرؔ
پھولوں سے گلدان سجا لیتے ہیں لوگ