یہ زمیں یہ حسیں سرزمیں

Zaheer Ghazipuri (b. 1938)

یہ زمیں یہ حسیں سرزمیں

جنگلوں پربتوں سبزہ زاروں نشیلی ہواؤں کی آماجگاہ

اس سے رشتہ مرا

جسم و جاں کی طرح

خواہشوں آرزوؤں امنگوں کے سیل رواں کی طرح

اس کی مٹی کی سوندھی مہک

اس کی برسات کا ہر نم جاوداں

اس کی یخ بستہ راتوں کی شادابیاں

اس کی جلتی ہوئی دوپہر کی لپک

گوشت اور پوست میں میرے پیوست ہے

فاختہ کے پروں کی طرح

یہ زمیں

میری فکروں کی دہلیز بھی

سوچ کا خوب صورت سا آئینہ بھی

میرے احساس و جذبہ کا گھر

میرے لفظ و نوا کے لیے مستقل سائباں

جس کے سائے تلے

آج میرا وجود

ارتقا کی نئی منزلوں کے تعین میں مصروف ہے