عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیا
Balraj Hairat (1930–1995)عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیا
ذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیا
خلق کیا ہوگا آدم کو واقعی حضرت یزداں نے
لیکن اس کا نام بتاؤ جس نے اسے انسان کیا
رام تھے مریادا پرشوتم رام کی باتیں رہنے دو
اور بتاؤ اس دنیا میں کس نے کس کا مان کیا
ہم کچھ بھی تو نہیں تھے لیکن آپا یار بری شے ہے
پہروں اپنی یاد میں روئے جب بھی تیرا دھیان کیا
اب یہ تکلف بھی دنیا میں لوگ کہاں فرماتے ہیں
تو نے پوچھا حال ہمارا یار بڑا احسان کیا
دل تو اسی خاطر ہوتا ہے کیا یہ تمہیں معلوم نہ تھا
حیرتؔ کیوں بربادئ دل پر جی اتنا ہلکان کیا