خود کو اعلیٰ صفات لکھ دیتے
Yas Chandpuri (b. 1930)خود کو اعلیٰ صفات لکھ دیتے
کچھ تو وہ دل کی بات لکھ دیتے
دست نازک میں تھا قلم ان کے
دل کشیٔ حیات لکھ دیتے
دل میں آ بستے اور دل کو مرے
حاصل کائنات لکھ دیتے
کام لیتے اگر حقیقت سے
دن کو دن شب کو رات لکھ دیتے
ہاتھ میں ان کے تھا ورق سادہ
اک پسندیدہ بات لکھ دیتے
مجھ اذیت پسند کے حق میں
جتنی تھیں مشکلات لکھ دیتے
شادمانی کو اپنا حق لکھ کر
میرے حصے میں مات لکھ دیتے
ضو فشاں کرتے میرا مستقبل
کچھ نہ کچھ التفات لکھ دیتے
کچھ تو میں بھی سکون پا لیتا
غم سے میری نجات لکھ دیتے
عارضی شے ہے زندگی اے یاسؔ
کیسے ہم پر ثبات لکھ دیتے