ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ایسا عمل اغیار کریں گے

Yas Chandpuri (b. 1930)

ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ایسا عمل اغیار کریں گے

جینا بھی دشوار کریں گے مرنا بھی دشوار کریں گے

ایسی توقع ان سے کب تھی ایسا کب سوچا تھا ہم نے

ہم کو ہی رکھیں گے پیاسا اوروں کو سرشار کریں گے

اپنے دل کی تم سے کہہ کر من کو ہلکا کر لیتے ہیں

تم نہ سنو گے بات ہماری ہم کس سے اظہار کریں گے

عزم مصمم لے کر دل میں آج یہ ہم نے عہد کیا ہے

غفلت میں جو خوابیدہ ہیں ہم ان کو بیدار کریں گے

فکر نشیمن ہم نہیں کرتے ہم کرتے ہیں فکر گلستاں

سب کے دکھ میں کام آئیں گے سب کی نیا پار کریں گے

اس دنیا کو چھوڑ کے اک دن آگے پیچھے جانا ہوگا

رہ کے کیا مجبور کریں گے رہ کے کیا مختار کریں گے

بخشی ہے اللہ نے ہم کو علم کی دولت قوت ایماں

دیکھنا اک دن حق کی خاطر ہم باطل پر وار کریں گے

آپ سے ہے حد درجہ محبت آپ کے ہم ہیں آپ ہمارے

آپ کا ذکر خیر ہمیشہ ایک نہیں سو بار کریں گے

حال میں دکھ ہے یاسؔ اگرچہ مستقبل میں خوشیاں ہوں گی

وہ دیتے ہیں غم دینے دو ہم بھی غم سے پیار کریں گے