کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگی

Balraj Hairat (1930–1995)

کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگی

مرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگی

پڑھا تو تھا کہیں میں نے کسی فقیر کا قول

بغاوتوں کی نگہباں سپردگی ہوگی

میں خود سے محو تکلم تھا بے حجابانہ

مجھے خبر نہ تھی دنیا بھی سن رہی ہوگی

مرے وجود کو آہنگ بھی اسی نے دیا

مرے عدم کا سبب بھی یہی صدی ہوگی

ابھی ابھی جو سر رہ گزر ملی تھی مجھے

وہ دھوپ چھانو کی مورت کہاں گئی ہوگی

سفینۂ وقت کسے اپنے منہ لگاتا ہے

ہمیں نے پھر کوئی بات ایسی ویسی کی ہوگی

حیات میں وہ مقام آ رہا ہے اب کہ جہاں

نہ اعتقاد معاون نہ آگہی ہوگی

عجیب خوف مسلط دل و دماغ پہ ہے

مرے سفر کی یہ شب شاید آخری ہوگی

یہ جنوری کا مہینہ بھی کٹ گیا حیرتؔ

خدا کے فضل سے کل ایک فروری ہوگی