اک بھلا کام کوئی کر کے دکھاؤ تو سہی

Yas Chandpuri (b. 1930)

اک بھلا کام کوئی کر کے دکھاؤ تو سہی

کوئی گرتی ہوئی دیوار اٹھاؤ تو سہی

توڑ دینا تو کسی چیز کا آساں ہے بہت

دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو ملاؤ تو سہی

جذبۂ عشق کی تاثیر دکھانی ہے تمہیں

ہم منا لیں گے تمہیں روٹھ کے جاؤ تو سہی

معرکہ سر کوئی کرنا ہے اگر دنیا میں

متحد ہو کے سبھی سامنے آؤ تو سہی

ہر طرف دشمن جاں تاک میں بیٹھے ہیں بہت

کھولو آنکھوں کو ذرا ہوش میں آؤ تو سہی

زد میں آئے گا تمہارا بھی مکاں آخر کار

اپنے ہمسایہ کے گھر آگ لگاؤ تو سہی

یار بدلو تو سہی رنگ تغزل اپنا

اک نئی بات رقم کر کے دکھاؤ تو سہی

تم کو آ جائے گا گر گر کے سنبھلنا اے یاسؔ

اور کچھ روز ابھی ٹھوکریں کھاؤ تو سہی