اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلے

Balraj Hairat (1930–1995)

اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلے

ساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلے

بے سعادتی ٹھہرے خواہ اب ہنر نکلے

سب نے جس سے روکا تھا ہم وہ کام کر نکلے

اک عجیب سناٹا محو شعر خوانی تھا

ہم جہاں جہاں پہونچے ہم جدھر جدھر نکلے

جانے کس کے ہاتھ آئیں اور کیا فضا پائیں

پھر علامتیں بن کر میرے بال و پر نکلے

گہرے پانیوں سے کیا اور دوستو ملتا

میری خالی آنکھوں میں سینکڑوں بھنور نکلے

منزلوں کے پیچھے بھی اور منزلیں ہوں گی

رہ گزر سے آگے بھی کوئی رہ گزر نکلے

کائنات کی ہستی اک فضائے سرمستی

جیسے چاندنی شب میں ذہن گشت پر نکلے

ہم نے ان کو دیکھا ہے ہم نے ان کو پرکھا ہے

جتنے دیدہ ور نکلے خاصے کم نظر نکلے

صرف میں نہ تھا تنہا زد میں دھوپ کی ایسا

میری طرح کے ہر سو انگنت شجر نکلے

کیا بھرے زمانے میں بس یہی نہیں ممکن

میں کہیں ٹھہر جاؤں کوئی میرا گھر نکلے

دوسروں نے کیا حیرتؔ غم کو غم نہیں سمجھا

ہم مگر غلط نکلے اور کس قدر نکلے