نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگ

Balraj Hairat (1930–1995)

نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگ

شناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگ

کسے خبر تھی کہ راہیں قدم جکڑ لیں گی

چلے تھے تیرے تجسس میں کتنی آس سے لوگ

نہ کوئی تف کا ٹہوکا نہ طنز کے پتھر

تکا کیے مجھے کیوں آج بد حواس سے لوگ

یہ گھر بھی میرا ہے اس کی تمام چیزیں بھی

ہر ایک گوشے میں لیکن یہ ناشناس سے لوگ

سنا یہ ہے کہ پیمبر ہیں دور زریں کے

دھواں دھواں سا یہ ماحول اداس اداس سے لوگ

نہ جانے بعد نے کیا کیا بنا دیا تھا انہیں

مرا ہی عکس تھے دیکھے جو میں نے پاس سے لوگ

ہزارہا مہ و خورشید ہاتھ پکڑیں گے

بھٹک نہ جائیں خلا میں یہ بد حواس سے لوگ

خود آگہی انہیں ایسا بنا گئی ورنہ

تھے ناشناس نہ حیرتؔ یہ ناشناس سے لوگ