حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیا
Balraj Hairat (1930–1995)حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیا
ناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیا
تجھ سے مفارقت کا نہیں غم تو اس کا ہے
میں خود بھی اپنے واسطے نادیدہ ہو گیا
ساغر اچھلتے دیکھ کے کیوں رو پڑی گھٹا
ماحول دفعتاً بڑا سنجیدہ ہو گیا
بوڑھی ہوا نے پیار سے پھیرا تھا سر پہ ہاتھ
پتا عجیب خوف سے لرزیدہ ہو گیا
حیرتؔ کسی کا اپنے مقدر پہ بس نہیں
پروانہ خود ہی شمع کا گرویدہ ہو گیا