اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سے

Balraj Hairat (1930–1995)

اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سے

کب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سے

موتی لٹا رہے ہیں ستارے اداؤں سے

خیرات ضو کی لائے ہیں سورج کے گاؤں سے

اے انتہائے شوق ذرا صبر کر ابھی

الجھا ہوا ہے ذہن ابھی ابتداؤں سے

اے تیرگی کے سانپ مرے دل پہ لوٹ جا

تیرا ہی ذکر خیر تھا دھندلی فضاؤں سے

دی ہیں جو آہ نیم شبی نے بصیرتیں

کافور ہو نہ جائیں سحر کی دعاؤں سے

ننھا سا اک فرشتہ کھڑا دیکھتا رہا

کچھ کہہ رہا تھا آدمی برگد کی چھاؤں سے

شب بھر بھنبھوڑتا رہا کتا قیاس کا

ایسی بھی دل لگی نہ کیا کر گداؤں سے

حیرتؔ یہ اعتقاد کا اندھا کنواں نہیں

بچ کر نکل شعور کی جلتی چتاؤں سے