کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھا

Balraj Hairat (1930–1995)

کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھا

سورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھا

اس انجمن میں چھنتی ہماری تو کس کے ساتھ

کمزوریوں کا نام وہاں انکسار تھا

ہوتا بھلا نہ عرش پہ اس کا دماغ کیوں

آخر وہ برگ خشک ہواؤں کا یار تھا

ہر چند اس کی آنچ سے روحیں جھلس گئیں

جسموں کا لمس پھر بھی بڑا خوشگوار تھا

اتنا بھی کوئی شخص نہ تنہا ہو زیست میں

سارا جہان رات مرا غم گسار تھا

حیرتؔ کچھ اس کا حال ہمیں بھی سنائیے

جس بادہ کش کو بادہ پرستی سے عار تھا