کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئی

Balraj Hairat (1930–1995)

کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئی

مگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئی

کوئی بھی چول تو سیدھی نہیں ملی اس کی

ترا مزاج ہوا بیسویں صدی نہ ہوئی

وہ پیاس تھی کہ ہم اپنا لہو بھی پی جاتے

یہ اتفاق تھا اس سمت فکر ہی نہ ہوئی

جو کام ہاتھ میں ہم نے لیا سرے نہ چڑھا

جو بات سوچ کے تم ہنس دیے کبھی نہ ہوئی

سلام شوق ہر اک رات کی زبان پہ تھا

شریک حال مگر کوئی رات بھی نہ ہوئی

نگل گیا اسے میرا مزاج تیرہ شبی

وہ چاند ہی تھا مگر اس سے چاندنی نہ ہوئی

اس آخری تگ و دو کا بھی حشر دیکھ لیا

خوشی سے مل کے بھی حیرتؔ کوئی خوشی نہ ہوئی