ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہے

Balraj Hairat (1930–1995)

ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہے

عشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہے

تم تو یقیناً جانتے ہو گے واقعی کیا یہ حقیقت ہے

اکثر لوگ کہا کرتے ہیں عشق بڑا بد قسمت ہے

قافلے والو ناواقف ہو شاید ان اسرار سے تم

راہ طلب میں گاہے گاہے گمراہی بھی نعمت ہے

ہم دیوانے کیا بتلائیں ہم سے نہ پوچھو کیوں یارو

ہر تہذیب کی محرابوں میں خون بشر کی رنگت ہے

فکر نہیں ہے اس عنصر کا نام محبت ہے شاید

جس سے تہذیبیں بنتی ہیں جس سے زیست عبارت ہے

رات نے ساز مہ و انجم پر کتنی لوریاں چھیڑی ہیں

جی کرتا ہے اب سو جائیں اے غم ہجر اجازت ہے

دنیا کو عرفان محبت دینے والوں میں حیرتؔ

جانے کتنے لوگ ہیں جن کو اپنے آپ سے نفرت ہے