Poetry
Poet
Meter
- چارہ گروMustafa Zaidi (1930–1970)
- تری ہنسیMustafa Zaidi (1930–1970)
- ایک علامتMustafa Zaidi (1930–1970)
- آدمیMustafa Zaidi (1930–1970)
- نیا آذرMustafa Zaidi (1930–1970)
- مسافر (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- ہار جیتMustafa Zaidi (1930–1970)
- اجالاMustafa Zaidi (1930–1970)
- دور کی آوازMustafa Zaidi (1930–1970)
- رات سنسان ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کراہتے ہوئے دلMustafa Zaidi (1930–1970)
- تنہاMustafa Zaidi (1930–1970)
- مرے زخمی ہونٹMustafa Zaidi (1930–1970)
- جدائیMustafa Zaidi (1930–1970)
- وصالMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیاسنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہر طرف انبساط ہے اے دلاور ترے گھر میں رات ہے اے دلMustafa Zaidi (1930–1970)
- ریستوران میںMustafa Zaidi (1930–1970)
- ایک شام (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- گناہ گارMustafa Zaidi (1930–1970)
- آسماں زرد تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- ان کے عارض پہ اشکوں کے دھارےجیسے پھولوں کو شبنم سنوارےDaur Afridi (1930–1992)
- ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگیکسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگیDaur Afridi (1930–1992)
- تم تھے اور آلام بہت تھےاور وہ صبح و شام بہت تھےDaur Afridi (1930–1992)
- جہاں ان کو ان کے اشاروں کو دیکھاوہیں دل کی سازش کے ماروں کو دیکھاDaur Afridi (1930–1992)
- جہاں چھیڑ دے کوئی ان کا فسانہہمہ رنگ لفظوں کی جنت سجاناDaur Afridi (1930–1992)
- خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہےتجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہےDaur Afridi (1930–1992)
- غم دل کو بدل جانے کی ضد ہےمگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہےDaur Afridi (1930–1992)
- کون ہے اس کے بانکپن کی طرححسن ہے حسن انجمن کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- میری تباہیوں پہ کوئی مسکرا دیاگویا کسی نے کچھ تو مجھے آسرا دیاDaur Afridi (1930–1992)
- میں نے چاہت کے گیت گائے تھےسننے والے مگر پرائے تھےDaur Afridi (1930–1992)
- ناز و غمزہ نما کلام آئےتیرے نامے تھے میرے نام آئےDaur Afridi (1930–1992)
- وہ تیرے غم کو پہچانے نہیں ہیںابھی اپنوں میں بیگانے نہیں ہیںDaur Afridi (1930–1992)
- جب ترے شہر و کوچہ و در سےزندگی سرگراں رہی تو نےDaur Afridi (1930–1992)
- خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاDaur Afridi (1930–1992)
- خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تکگھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضاDaur Afridi (1930–1992)
- سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- کس نے دیکھا ہے اشکوں کو بہتے ہوئےسونے چاندی کے محلوں میں تم جا بسےDaur Afridi (1930–1992)
- میری ہر اک نظر نے سجدہ کیارونق حسن و جان روئے نگارDaur Afridi (1930–1992)
- وائے ناداریاں ہائے مجبوریاںرسم و آداب کے بس میں ہے زندگیDaur Afridi (1930–1992)
- ہار کی جیت کی ریت ہے زندگیزندگی مد و جزر حکایات ہےDaur Afridi (1930–1992)
- مگر وہ سب کچھ بھلا چکی ہےکہ جس کے ہم راہ بیتا بچپنDaur Afridi (1930–1992)
- اپنا دکھڑا کہتے ہیںاور تجھے کیا کہتے ہیںGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اجلے میلے پیش ہوئےجیسے ہم تھے پیش ہوئےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اک سایۂ شام یاد آیاخوشبو کا خرام یاد آیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- بندوں کا مزاج ہم نے دیکھاکیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- جاتی رت سے پیار کرو گےکر لو بات ادھار کرو گےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہےپانی کا بہاؤ کس طرف ہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھےیہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کوناب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کونGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)