چھوڑ دے کرب انا موجۂ پر خم بننا

Balraj Hairat (1930–1995)

چھوڑ دے کرب انا موجۂ پر خم بننا

زندگی سیکھ گئی گیسوئے برہم بننا

کیا کوئی اور تصرف نہ تھا اس کا ممکن

کیسی مٹی کے مقدر میں تھا آدم بننا

ہاں خمیر ایک ہی درکار ہے دونوں کے لئے

چشم جاناں ہو کہ پیمانۂ زمزم بننا

مدعی مرہم ہر زخم کے ہونے والے

آ گیا راس تجھے کیا غم عالم بننا

ہر سنورتی ہوئی تقدیر ہے ماتھے پہ شکن

ہر ابھرتی ہوئی تصویر کو مبہم بننا

اور بھی دہکے رہو دہکے رہو دہکے رہو

آ ہی جائے گا کبھی پھول پہ شبنم بننا

کیوں مجھے یاد دلاتا ہے ازل کے دن کی

میری صورت کا ترے ذہن میں کم کم بننا

ہر تبسم رہا مرہون فغاں کا حیرتؔ

ہر مسرت کو پڑا بار گہہ غم بننا