پر خطر راہ اگر ہو تو سفر مت کیجے

Yas Chandpuri (b. 1930)

پر خطر راہ اگر ہو تو سفر مت کیجے

زندگی زیر و زبر ہو تو سفر مت کیجے

دھوپ کی شدت بیتاب ہے تا حد نظر

کوئی سایہ نہ شجر ہو تو سفر مت کیجے

کوئی تارا ہو نہ جگنو ہو نہ منزل کا پتہ

شب ہی شب ہو نہ سحر ہو تو سفر مت کیجے

کون ہے دشمن جاں رہزن منزل یارو

جب کہ یہ بھی نہ خبر ہو تو سفر مت کیجے

جائیے کوئی بلائے جو اماں کی خاطر

ہاں اگر خیر میں شر ہو تو سفر مت کیجے

رستہ ہموار ہو تو شوق سے چلتے رہئے

یاسؔ اگر گرنے کا ڈر ہو تو سفر مت کیجے