دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیں
Yas Chandpuri (b. 1930)دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیں
وقار عظمت قرآن ہم بھی رکھتے ہیں
شعور و فکر تو ہر آن ہم بھی رکھتے ہیں
برے بھلے کی تو پہچان ہم بھی رکھتے ہیں
کہو نہ مردہ ہمیں جان ہم بھی رکھتے ہیں
رگوں میں خون کا دوران ہم بھی رکھتے ہیں
ہمیں بنایا گیا ہے صداقتوں کا امیں
دلوں میں جذبۂ ایمان ہم بھی رکھتے ہیں
تم اپنے ظلم کو روکو نہ ہم سے ٹکراؤ
وگرنہ قوت سلطان ہم بھی رکھتے ہیں
کسی بھی ضرب سے ہرگز خطا نہیں ہوں گے
سروں میں اپنے وہ اوسان ہم بھی رکھتے ہیں
کسی کے ساتھ کم و بیش کا عمل نہ کرو
نظر کے سامنے میزان ہم بھی رکھتے ہیں
بس ایک تم ہی نہیں یاسؔ حق پرستوں میں
خدا کی ذات پہ ایمان ہم بھی رکھتے ہیں