دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میں

Yas Chandpuri (b. 1930)

دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میں

بس سادگی سے عمر بسر کر رہا ہوں میں

پلکوں پہ آنسوؤں کو گہر کر رہا ہوں میں

روشن اندھیری رات میں گھر کر رہا ہوں میں

اب اس کی یاد سے کبھی اس کے حبیب کی

آباد اپنے دل کا نگر کر رہا ہوں میں

جب مجھ کو گلستاں کا محافظ بنا دیا

یوں دور اس سے برق و شرر کر رہا ہوں میں

ممکن ہے پھوٹ نکلے کبھی نخل آرزو

سوکھی زمیں کو آب سے تر کر رہا ہوں میں

شاید قبول کر لے کسی دن وہ میری بات

پیدا زباں میں یاسؔ اثر کر رہا ہوں میں